حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیخ ابراہیم زکزاکی نے منگل 19 ربیع الاول 1448ھ، مطابق 1 ستمبر 2026، ابوجا میں اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔
انہوں نے معاشرے میں موجود نسلی اور گروہی اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے درمیان تنازع اور اختلاف پیدا کرنا دشمنوں کا ایک ایسا حربہ ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے اور ملک کے وسائل و دولت کو لوٹنے کے لیے حالات سازگار کرتے ہیں۔
نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما نے ان دعووں سے بھی خبردار کیا جن کا مقصد عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنا اور یہ سوچ پیدا کرنا ہے کہ ’’فلانی تمہارا بھائی نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے تفرقہ پیدا کرنے کی ہر کوشش کے مقابلے میں عوام کو ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔
شیخ زکزاکی نے مزید کہا کہ مغربی طاقتیں نائیجیریا میں بھی اسی طریقے سے تنازعات اور اختلافات پیدا کرتی ہیں، جبکہ دوسری جانب اپنے مفادات کے لیے کام کرنے والے بعض بدعنوان سیاست دانوں کے ذریعے اس ملک کے وسائل کو لوٹ رہی ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان سازشوں کو سمجھیں، بیدار ہوں اور ظلم و جبر کی قوتوں کے تسلط سے نجات کے لیے جدوجہد کریں۔
شیخ ابراہیم زکزاکی نے توکل پر زور دیتے ہوئے کہا: ’’اگر عوام استقامت کا مظاہرہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور پہنچے گی۔‘‘
انہوں نے خطاب کے اختتام پر تقریب کے شرکا کو مہربانی، عفو و درگزر، نیک کام، حیا اور صلۂ رحمی جیسی اخلاقی اقدار کی پابندی کی دعوت دی اور دین سے مضبوطی سے وابستہ رہنے پر زور دیا۔









آپ کا تبصرہ